×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / خریدنے کے لئے پیش کی جانے والی زمین میں زکوٰۃ کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:2788
- Aa +

سوال

میرے پاس ایک زمین ہے جسے میں نے بیچنے کے لئے پیش کی ہے تو میں اس کی کب زکوٰۃ نکالوں؟

لدي أرض وعرضتها للبيع، فمتى أُخْرِج زكاتها؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اگر وہ زمین تجارتی زمین ہے ، یعنی اس سے مقصود تجارت اور کمائی ہو تو جب اس پر پورا سال گزر جائے تو باقی مال کی طرح اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہے ، البتہ اگر اس سے مقصود تجارت نہ ہو تو پھر اگرچہ کئی سالوں کے لئے بھی اس کو تجارت کے لئے پیش کیا جائے پھر بھی اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں