×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​​قربانی کے مسائل / عید کی رات قربانی کرنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:1461
- Aa +

سوال

کیا ذوالحجہ کی نو تاریخ کو مغرب کے بعد عید کی رات قربانی کرنا جائز ہے؟

ذبح الأضحية ليلة العيد

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ طلوع فجر سے پہلے قربانی جائز نہیں ہے ، اس میں ان کا کوئی اختلا ف نہیں ہے ، صحیح بخاری {۵۵۰۰} و مسلم {۱۹۶۰} میں حضرت جندب بن سفیان بجلی کی حدیث میں ہے کہ آپنے نماز سے پہلے کچھ بکریاں ذبح ہوتے دیکھیں تو ارشاد فرمایا: ’’جس نے بھی نماز سے پہلے قربانی کی ہے تو وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرلے‘‘۔

 اس طرح حضرت انس اور براء بن عاز ب سے بھی منقول ہے ۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

13/01/1425هـ


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں