×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​فتاوی امریکہ / خنزیر کے چربی سے بنائے ہوئے پنیر کو کھانے کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:2497
- Aa +

سوال

خنزیر کے چربی سے بنائے ہوئے پنیر کو کھانے کا کیا حکم ہے؟
حكم الأكل من الجبن المصنوع من إنفحة الخنزير

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔
انفحۃ: ایک ایسی چیز ہوتی ہے جو دودھ پلائے جانے والے جانور کے پیٹ سے نکالی جاتی ہے ، اس کا رنگ پیلا ہوتا ہے ، جب اس کو دودھ میں نچوڑا جاتا ہے تو اس سے پنیر بن جاتا ہے ، خنزیر کے چربی {خمیر} میں علماء کے دو اقوال ہیں:
امام مالک اور امام شافعی کا مذہب اس میں نجاست کا ہے اور یہی امام احمد کا بھی مذہب ہے ۔
امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ پاک ہے ، یہ امام احمد کی بھی ایک روایت ہے ، لیکن بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ یہ پاک ہے ، اس لئے کہ صحابۂ کرام نے جب بلادِ عراق کو فتح کیا تو انہوں نے مجوسیوں کے پنیر میں سے کھایا ۔
 فتاوی مصریہ [۱/۲۷] میں صحابہ کا مجوسیوں کے پنیر کھانے کے بعد شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ ان کے ہاں یہ ظاہری طور پر اچھا تھا ، اور بعض صحابہ سے اس کی کراہت کا جو قول منقول ہے تو وہ ذرا زیرِ غور ہے ۔
عبد الرزاق نے اپنی کتاب مصنف [۱۲/۸۷] میں شقیق سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ عمرؓ سے کہا گیا کہ یہاں کچھ لوگ ہیں جو پنیر بناتے ہیں اور اس میں مردار جانور کے پیٹ کا خمیر ڈالتے ہیں ، عمر ؓ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: تم اللہ کا نام لے کر اس کو کھایا کرو۔
جس پنیر میں مردار جانور کے پیٹ کا خمیر استعمال ہوتا ہے تو اس میں یہ أصح اثر وارد ہوا ہے ، جیسا کہ امام احمد نے کہا ہے کہ اس میں یہ أصح حدیث ہے ، ابن رجب نے اس حدیث (ان اللہ فرض فرائض فلا تضیعوھا) [۲/۱۶۷] کی شرح میں جامع العلوم والحکم میں نقل کیا ہے کہ خنزیر کے خمیر میں دو اشکال ہیں، ایک تو خنزیر کی نجاست جو سراسر نجاست ہے ، اور یہ نجاست اس کے ہر جزو میں شامل ہے ، اسی طرح وہ دودھ جس سے یہ خمیر تیار ہوتا ہے تو وہ بھی نجس ہے ۔
اسی پر یہ کہا جاتا ہے ، اگر خنزیز کا وہ خمیر مکمل طور پر پنیر میں استعمال کرنے کے بعد تبدیل ہوجاتا ہے تو پھر اس پنیر کا کھانا جائز ہے ، اس لئے کہ اب بالاجماع اس میں حرام کردہ خنزیر کا کچھ بھی باقی نہیں رہا، اور اگر خنزیر سے کچھ باقی رہتا ہے اور غالب گمان یہ ہو کہ یہ پنیر میں پھیل جائے گا تو اس صورت میں اس پنیر کا کھانا جائز نہیں ہے اس لئے کہ اس میں اب خنزیر کے اجزاء ملے ہوئے ہیں۔
کتاب اعانۃ الطالبین میں لکھا ہے کہ خنزیر کے خمیر سے تیارکردہ پنیر کھانا جائز نہیں ہے [۱/۱۰۵]۔ واللہ أعلم


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں