×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / القضاء والشهادات / اپنا حق حاصل کرنے کے لئے رشوت دینا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:1720
- Aa +

سوال

میرا کچھ مال ہے اور میں امپورٹ/اکسپورٹ کا کام کرنا چاہتا ہوں ، لیکن جزائر میں جو شخص بھی اس سلسلے میں کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو رشوت دینا لازمی ہوتا ہے ، اور اس کے ساتھ بلوں میں جھوٹ سے بھی کام لینا پڑتا ہے ، لہٰذا اس میں شرعیت کا کیا حکم ہے؟ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے

هل أدفع الرشوة لتحصيل حقي؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

جہاں تک آپ کا اپنے حق کو لینے کے لئے رشوت دینے کا سوال ہے تو وہ آپ کے لئے جائز ہے اور اس میں آپ پر کوئی گناہ بھی نہیں ہے ، گناہ اس شخص پر ہوگا جو جس نے آپ کا حق روک کر آپ کو رشوت دینے پر مجبور کیا ہے ، باقی رہی جھوٹ کی بات تو میرے خیا ل میں یہ جائز نہیں ہے ہاں البتہ اگر توریہ سے کام لیا جائے تو پھر جائز ہے ۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

11/11/1424هـ


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں