×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / بیع آئیڈیل پرائس پر ہوتی ہے

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:1522
- Aa +

سوال

جناب مآب میرا سوال یہ ہے کہ میں گاڑیوں کے خریدنے اور بیچنے کا کاروبار کرتا ہوں تو کیا جب بھی میں کوئی گاڑی خریدوں اور پھر اس کو فروخت کرنا چاہوں تو اس کو میں نے جتنے میں خریدی ہے اتنے میں ہی فروخت کروں یا میں اس کی کوئی بھی قیمت لگا سکتا ہوں؟

البيع يكون بسعر المِثْل

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

وہ جتنی قیمت میں فروخت کرنا چاہے اسے مکمل اختیار ہے کیونکہ تجارتی لین دین میں پرافٹ کے اعتبار سے کوئی حد متعین نہیں ہے، البتہ اگر شہر میں کوئی قیمت رائج ہو جس کو فقہاء کی زبان میں آئیڈیل پرائس کہتے ہیں تو پھر اس آئیڈیل پرائس سے تجاوز کرنا جائز نہیں ہے کہ یہ ایک فراڈ اور دھوکہ ہے، مثال کے طور پر ایک کپ دس ریال میں بیچا جاتا ہے اور تمام دکانوں میں اس کی یہی ایک قیمت ہے لیکن آپ جب کسی دوسری دکان میں جاتے ہیں تو وہ دکاندار آپ کو گیارہ ریال کا بیچتا ہے اب ایک ریال کی ادائیگی لوگوں کے لئے مشکل نہیں ہے اور لوگ اس کی پرواہ بھی نہیں کرتے لیکن پھر بھی یہ لوگوں کے ساتھ ایک دھوکہ ہے، لیکن اگر وہ آپ کو بیس ریال کا بیچتا ہے جبکہ وہ دس ریال کا ملتا ہے تو آپ اس سے کہتے ہیں کہ بھائی جان آپ نے مجھے دھوکہ دیا ہے یعنی بازار میں جب یہ دس ریال کا بکتا ہے تو آپ مجھے کس طرح بیس ریال میں بیچتے ہیں ؟ اب چونکہ یہ ایک فراڈ ہے اس لئے اس صورت میں یہاں جب تک یہ صراحت نہ کی جائے کہ بازار میں یہ اتنے کا بیچا جاتا ہے تو اس پہ پرافٹ لینا جائز نہیں ہے ۔

یہاں پرافٹ کی مقدار کے مسئلہ میں ایک اہم عنصر بیع کی جگہ بھی ہے ، اس لئے کہ فٹ پاتھ پر بیچنے والا شخص کسی دکان اور تجارتی منڈی میں بیچنے والے شخص کی طرح نہیں ہے اور یقینا اس کی آمدنی ہے اور اس کی کوئی لاگت و قیمت نہیں ہے، اور آج کل یہ رواج بھی چل پڑا ہے کہ ایک شخص اپنے کسی رشتہ دار کو قیمت پر بیچ دیتا ہے، اس شخص کے برخلاف جس کی دکان اعلی تجارتی جگہوں پر ہوتی ہے


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں