×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / کریڈٹ کارڈز کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:1337
- Aa +

سوال

ازراہ کرم کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ لین دین کے حکم کی وضاحت کریں نیز ویزہ کارڈ کی وضاحت بھی کریں جس کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ایک مخصوص مدت میں خریدی ہوئی رقم کی ادائیگی ہو، پھر اس عرصہ کے گزر جانے کے بعد بینک رقم پر سُود رکھنا شروع کردیتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سُودی شرط شروع سے ہی عقد کو فاسد کر دیتی ہے یا پھر شرط فاسد ہوجاتی ہے اور عقد درست ہو جاتا ہے ، مطلب یہ کہ جب ماہانہ مدت ختم ہونے سے پہلے ان خریدی ہوئی چیزوں کی رقم کی ادائیگی تام ہوجاتی ہے تو یہ ایک پاک قرضہ بن جاتا ہے جس میں کوئی حرمت نہیں ہوتی؟

حكم بطاقات الائتمان

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اس قسم کے کریڈٹ کارڈز جائز نہیں ہیں اس لئے کہ نکالی ہوئی رقم کی عدمِ ادائیگی کی صورت میں یہ عقد سُود پر مشتمل ہے، اگر کوئی یہ بھی سوچے کہ وہ اس مدت کے گزرنے سے پہلے پہلے ادائیگی کر لے گا جس میں سُود کی زیادتی شمار نہیں کی جائے گی تو اس صورت میں بھی یہ عقد صحیح نہیں ہے ، اس لئے کہ سود کا لین دین اور سود پر موافقت دونوں حرام ہیں اگرچہ انسان اس سے محفوظ ہو کہ وہ سود میں پڑجائے گا۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

08/04/1425هـ


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں