×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / یونیورسٹی کے پروفیسر کی تنخواہ اور اُور ٹائم کی اجرت کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-07-07 06:16 PM | مناظر:1522
- Aa +

سوال

ایک آدمی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر کی ملازمت کرتا ہے ، وہ یہ سوال کر رہا ہے کہ ہمارے ڈپارٹمنٹ اور باقی دوسرے ڈپارٹمنٹ میں ایک رواج چل پڑا ہے کہ ہم اپنے آپ کو روزانہ کے اعتبار سے ملازمت پر موجود نہیں پاتے ، بلکہ دو تین دن جاتے ہیں ، اور باقی دنوں میں ہم پڑھائی کرتے ہیں اور ماسٹر کے مضمون کیلئے تیاری کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ، اور جب اس نے روزانہ کی حاضری کے بارے میں پوچھا تو اس سے کہا گیا کہ آپ کی تنخواہ متعین وقت کی قید کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ آپ سے صرف اس مدت میں یہ طلب کیا جاتا ہے کہ آپ اس عرصہ میں ماسٹر کے موضوع سے فارغ ہو جائیں ، خاص کر لیبر قانون اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسے تدریس کاحق نہیں ہے ، (۱) لہٰذا وہ اس تنخواہ کے حکم کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے جس کو وہ حاصل کرتا ہے (۲) مال کا ایک جز حاصل کرتا ہے جسے اُور ٹائم کہتے ہیں (یعنی اصل کام کے اوپر کے زائد گھنٹے) جس میں وہ صرف دو دن حاضری دیتا ہے اور اپنے روٹین کے ٹائم پر چلا جاتا ہے، اب اس مال کا کیا حکم ہے؟

حكم مرتب معيد الجامعة وأجرة الوقت الإضافي

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اپنے کام کے مقابلے میں وہ جو مال لیتا ہے تو اس کے لینے میں اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں ہے، اسلئے کہ اس طرح کے کاموں میں روزانہ کے اعتبار سے غیر حاضری کا تعامل بن چکا ہے، البتہ اُور ٹائم کے مقابلہ میں جو رقم لیتا ہے تو جب تک کوئی اضافی کام اس کے لئے اس مال کا لینا حلال نہ کردے  تو اس کے لئے اس مال کا لینا جائز نہیں ہے۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

26/10/1424هـ


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں