×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / طلاق رجعی

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

طلاق رجعی کا کیا حکم ہے؟ جوان عورت جسے حیض آتا ہے اور وہ بوڑھی عورت جسے حیض نہیں آتا ان کیلئے عدت کی مدت کتنی ہے؟ اور شوہو کیلئے رجوع کرنے کی کیا صورت ہو گی؟ اور کیا رجوع کرتے وقت دو گواہ ایک ہی مجلس میں ہونے کی شرط بھی ہے؟ الطلاق الرجعي

المشاهدات:3191

طلاق رجعی کا کیا حکم ہے؟ جوان عورت جسے حیض آتا ہے اور وہ بوڑھی عورت جسے حیض نہیں آتا ان کیلئے عدت کی مدت کتنی ہے؟ اور شوہو کیلئے رجوع کرنے کی کیا صورت ہو گی؟ اور کیا رجوع کرتے وقت دو گواہ ایک ہی مجلس میں ہونے کی شرط بھی ہے؟

الطلاق الرجعي

الجواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

طلاق رجعی کی صورت میں شوہر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوران عدت بیوی سے بغیر نئے نکاح کے اور بغیر عدت کے رجوع کر سکتا ہے اور بیوی کی رضامندی بھی ضروری نہیں ہے اگر رجوع کرنے سے اس کا ارادہ خیر اور صلح کا ہو۔

اور جس عورت کو حیض آتا ہے اس کی عدت تین حیض ہے اور جسے حیض نہیں آتا اسکی عدت تین مہینے ہے۔

اور رجوع کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ یہ کہے: میں اپنی فلاں بیوی سے رجوع کرتا ہوں اور اس پر گواہ بنا دے اور دو گواہوں کا ایک ہی مجلس میں اکٹھے ہونا مشروط نہیں ہے ، اگر پہلے ایک شخص کو گواہ بنا دیا پھر اس کے بعد دوسرے کو گواہ بنا دیا تو شہادت حاصل ہو جائے گی۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

17/01/1425هـ


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات135658 )
6. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67904 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات67376 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات58517 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات57590 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56919 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات55040 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات48107 )

مواد ذات صلة