×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / بغیر ہوش و حواس اور شعور کے لفظ طلاق بولا، اس کا کیا حکم ہے؟

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

اگر ایک آدمی کو ذہن میں عجیب و غریب وہم اور خیالات آتے رہتے ہیں، اور یہ بات تو معلوم ہے کہ انسان کبھی کبھار جو ذہن میں آئے بغیر سمجھے ہی کہہ دیتا ہے، تو کیا اگر ایسی ہی صورت ہو اور آدمی طلاق کے بارے میں محض خیالات کا سامنا کر رہا ہو اور بغیر حواس کے لفظ طلاق بول بیٹھے تو کیا طلاق واقع ہو جائیگی؟ نطق بلفظة الطلاق دون وعي أو شعور، فما الحكم؟

المشاهدات:2627

اگر ایک آدمی کو ذہن میں عجیب و غریب وہم اور خیالات آتے رہتے ہیں، اور یہ بات تو معلوم ہے کہ انسان کبھی کبھار جو ذہن میں آئے بغیر سمجھے ہی کہہ دیتا ہے، تو کیا اگر ایسی ہی صورت ہو اور آدمی طلاق کے بارے میں محض خیالات کا سامنا کر رہا ہو اور بغیر حواس کے لفظ طلاق بول بیٹھے تو کیا طلاق واقع ہو جائیگی؟

نطق بلفظة الطلاق دون وعي أو شعور، فما الحكم؟

الجواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

طلاق اسے شخص کی واقع ہوتی ہے جو لفظ طلاق اس حالت میں بولے کہ وہ عقل و شعور رکھتا ہو اپنے الفاظ پر اسے اختیار ہو اور زبردستی نہ ہو، تو جو آپ بتا رہے ہیں وہ اگر ایسے ہی مذکورہ صورتحال میں ہے تو وہ طلاق ہی ہے جب تک یہ نہ ہو کہ مبتلی بہ کو وساوس کی بیماری ہے، کیونکہ اس صورت میں طلاق نہیں ہو گی کوئی اثر نہیں ہو گا۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

20/10/1425هـ


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات135658 )
6. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67904 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات67376 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات58517 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات57590 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56919 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات55040 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات48107 )

مواد ذات صلة