×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / صدقہ فطر کی ادئیگی کسی اور شہر میں

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

کیا صدقہ فطرکی ادائیگی اپنے شہر کے علاوہ کسی دوسرے شہر میں کرسکتاہے ؟ هل يجوز إخراج زكاة الفطر خارج بلد المزكي؟

المشاهدات:2647

کیا صدقہ فطرکی ادائیگی اپنے شہر کے علاوہ کسی دوسرے شہر میں کرسکتاہے ؟

هل يجوز إخراج زكاة الفطر خارج بلد المزكي؟

الجواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

صدقہ فطر کی ادائیگی اپنے شہر کے بجائے  دوسرے شہردینا جائزہے لیکن جب کوئی مصلحت یا حاجت ہو ۔جسطرح کی صورت حال آج کل شام اورصومالیہ میں ہے توان حالات میں نقل زکوٰۃ وفطرجائز ہے ۔لیکن اگر نقدی کی شکل میں اس کی ادائیگی کرنی ہوتو جلدی کرے تاکہ جس کو بھیج رہے ہووہ اس پر کوئی طعام خریدسکے کیونکہ جمہور کامذہب یہ ہے کہ صدقہ فطر کی  اپنے اصلی ہی شکل میں دے ۔لیکن چونکہ یہاں نقدی بھیجنے میں ہی مصلحت اورضرورت ہے تواس حالات میں علما کی ایک جماعت نے نقل کرنے کی گنجائش دی ہے ۔

البتہ کوئی اس طرح کی مصلحت نہ ہوتو پھر اصل طعام ہی دے ۔کیونکہ ابن عمر ؓ کی حدیث میں آپ نے طعام کے بارے میں ہی فرمایاجیسے (نبی نے طعام میں سے ایک صاع کھجور نکالنے کاحکم دیا ہے خواہ وہ مسلمان بچہ ہوبڑاہو،آزاد ہوغلام ہو،اورمرد ہو یا عورت)


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات133619 )
5. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67244 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات66554 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات57959 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات56784 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56708 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات54412 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات47692 )

مواد تم زيارتها

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف